Like Us On Facebook Page

LightBlog

Breaking

Showing posts with label Urdu Stories. Show all posts
Showing posts with label Urdu Stories. Show all posts

Tuesday, February 12, 2019

February 12, 2019

فارمی چکن 🐓 - ایک دل چسپ رپورٹ

فارمی چکن 🐓 

ایک دل چسپ رپورٹ !!!



چکن آج امیر غریب ، چھوٹے بڑے سب کی پسندیدہ غذا ہے۔ دو ڈھائی عشروں میں ہی اس کا رواج بڑھا ہے۔
 
اصل میں یہ چوزے یعنی Chicks ہیں ۔ اس لئے ان کے گوشت کو Chicken کہا جاتا ہے۔ مرغی تو Cock یا Hen ہے۔


اس چکن کی افزائش پہ اگر نظر ڈالیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایک فارمی چوزہ صرف ڈیڑھ دو ماہ میں مکمل مرغی کے سائز کا ہو جاتا ہے۔ آخر کیوں ؟

جبکہ دیسی چوزہ تو چھ ماہ میں مرغی جیسا ہوتا ہے مکمل مرغی تو وہ سال میں بنتا ہے۔

اس فارمی چوزے کو جو غذا دی جاتی ہے اس میں ایسے ہارمونز Steroids اور کیمیکل ڈالے جاتے ہیں جو ان کی افزائش کو غیر فطری بڑھا دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ ان کی فیڈ میں مختلف جانوروں کا خون جو مذبح خانوں سے مل جاتا ہے ، جانوروں کی آلائش ، مردار جانوروں کا گوشت اس فیڈ میں شامل کیا جاتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل ایک نجی ٹی وی چینل نے لاہور کے مذبح خانوں پر ایک دستاویزی فلم پیش کی تھی جس میں ان فارمی مرغیوں کی خوراک کے بارے میں بھی دکھایا گیا تھا۔اس خوراک کا بیشتر حصہ خون ، آنتیں اور دیکر فضلات پر مشتمل ہوتا ہے۔

یہ فیڈ کھا کر یہ نومولود چوزے 6 سے 8 ہفتوں میں ہمارے پیٹ میں پہنچنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ یہ چوزے 🐓 بڑے ہونے کے باوجود بھاگنے اڑنے سے قاصر ہوتے ہیں کیونکہ ان کا جسم پھولا اور سوجا ہوا ہوتا ہے۔ جو کہ اسٹئرائڈز کا کمال ہوتا ہے۔ اسطرح کے اسٹئرائڈز باڈی بلڈر اور پہلوان استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی آخری عمر بستر پہ گذرتی ہے۔

اس فارمی مرغی🐓 کے مقابلے میں دیسی چوزہ جوکہ 6۔8 مہینوں تک چوزہ ہی رہتا ہے کو پکڑنا چاہیں تو بڑے آدمی کو بھی دانتوں پسینہ آجاتا ہے جبکہ فارمی مرغی🐓 کو ایک بچہ بھی آسانی سے پکڑ لیتا ہے۔

یہ فارمی چکن ہمارے معاشرے میں "ہائی پروٹین ، کولیسٹرول فری گوشت" کے نام سے رواج پاگیا ہے۔ 
حتٰی کہ ڈاکٹر حضرات بھی سارے گوشت بند کرکے فارمی چکن🐓 ہی تجویز کرتے ہیں جوکہ خود بیماریوں کی وجہ ہے۔

آئیے اب اس ہائی پروٹین والے سفید گوشت کے نقصانات دیکھتے ہیں۔

1۔ موٹاپا ، جسم پر چربی خاص طور پہ گردوں اور جگر پر۔
2۔ جوڑوں کا درد ، خاص طور پہ ہڈیوں کا بھر بھرا ہوجانا۔
3۔ بچے بچیوں میں جلد بلوغت کے آثار۔
4۔ اسٹیرائزڈ مرغیوں کا گوشت کھانے کی وجہ سے جسم کا مدافعتی نظام کا شدید کمزور پڑجانا جس کی وجہ سے آئے دن بیمار رہنا۔
5۔ مردوں میں کمزوری اور خواتین میں ایام کی بے قاعدگی کی شکایت۔

یہ چند چیدہ چیدہ نقصانات ہیں جو کسی میں جلد اور کسی میں کچھ عرصے بعد ظاہر ہوتے ہیں۔

زبان کا ذائقہ اور جلد پک جانے کی سہولت اس کے نقصانات کے مقابلے میں بہت ہی حقیر فائدے ہیں۔

جیسی غذا ہم کھاتے ہیں ویسی ہی صحت ہم پاتے ہیں۔ غذا میں دالوں سبزیوں کا استعمال بڑھائیں۔

گوشت میں بلترتیب:

مچھلی 🐠🐟🐬🐳، 
بکرے یا دنبہ 🐏🐐، 
اونٹ 🐫🐪اور آخر میں
بڑے🐂🐃 کے گوشت کی افادیت ہے۔

آیئے اپنے لئے اپنی آئیندہ صحت مند نسلوں کے لئے ہم اپنی خوراک پہ نظر ثانی کریں۔

February 12, 2019

ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﺎﭘﺎﻧﯽ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺗﺎﮨﮯ ؟

ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﺎﭘﺎﻧﯽ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺗﺎﮨﮯ ؟



ﺳﻮﺭﺝ ﻃﻠﻮﻉ ﮨﻮﭼﮑﺎﺗﮭﺎ . ﮨﻢ ﺳﺎﺣﻞ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﭘﺮﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ . ﺧﻨﮏ ﮨﻮﺍﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺗﮯ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﮐﺎﺣﺴﯿﻦ ﻣﻨﻈﺮﺧﺎﺻﺎ ﺩﻟﮑﺶ ﺗﮭﺎ . ﺗﺎﺣﺪﻧﮕﺎﮦ ﭘﮭﯿﻼ ﺳﻤﻨﺪﺭﻣﯿﺮﯼ ﺳﻮﭺ ﮐﺎﻣﺤﻮﺭﺑﻦ ﮔﯿﺎ
ﺳﻤﻨﺪﺭﮐﺎﭘﺎﻧﯽ ﮐﮭﺎﺭﺍ ﯾﺎﻧﻤﮑﯿﻦ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺗﺎﮨﮯ . ﺳﻤﻨﺪﺭﯼ ﻣﺪﻭﺟﺰﺭﮐﮯﭘﯿﭽﮭﮯ ﺁﺧﺮﮐﯿﺎﺣﮑﻤﺖ ﭘﻮﺷﯿﺪﮦ ﮨﮯ ؟

ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻢ ﻋﺎﻡ ﺳﺎﺗﺠﺰﯾﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﺑﺎﺭﺵ ﺍﻭﺭﺑﺮﻑ ﮐﺎﭘﺎﻧﯽ ﺟﺐ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺟﻨﮕﻠﯽ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯﮔﺰﺭﺗﺎﮨﮯ . ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻌﺪﻧﯿﺎﺕ ﮐﯿﻤﯿﺎﺕ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮﻟﯿﺘﺎﮨﮯ . ﺟﻮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺟﮭﯿﻠﻮﮞ ﺩﺭﯾﺎﺅﮞ ﮐﺎﺳﻔﺮﻃﮯﮐﺮﮐﮯﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮔﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﻣﺪﻭﺟﺰﺭ ﮐﮯﺗﺴﻠﺴﻞ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮨﻮﺍﻣﯿﮟ ﺍﮌﺟﺎﺗﺎﮨﮯ . ﺟﺒﮑﮧ ﻧﻤﮑﯿﺎﺕ ﺳﻤﻨﺪﺭﮐﺎﺣﺼﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ . ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ . ﺩﻧﯿﺎﮐﺎﺳﺐ ﺳﮯ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﺗﺮﯾﻦ ﺳﻤﻨﺪﺭﺑﺤﯿﺮﮦ ﻣﺮﺩﺍﺭﮐﮯﻧﺎﻡ ﺳﮯﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﮯ . ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪﮔﺮﯾﭧ ﺳﺎﻟﭧ ﻟﯿﮏ ﻧﺎﻣﯽ ﺟﮭﯿﻞ ﮐﺎﻧﻤﺒﺮﺁﺗﺎﮨﮯ . 
ﺍﻥ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﮐﺎﭘﺎﻧﯽ ﻋﺎﻡ ﺳﻤﻨﺪﺭﯼ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺩﺱ ﮔﻨﺎﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﮨﮯ .

ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻮﺍﻝ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﺍﺗﻨﮯﺑﮍﮮ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺮﺭﮐﮭﺎﮨﮯ . ﺍﺳﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﯿﺎﺟﺲ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻼﺕ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﯿﮟ

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯﺑﮭﺮﮮ ﺩﻭﭨﺐ ﺩﮬﻮﭖ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﮯ . ﺍﯾﮏ ﭨﺐ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﮐﻠﻮ ﻧﻤﮏ ﮈﺍﻻ . ﺩﻭﺳﺮﮮﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﻠﻮﭼﯿﻨﯽ ﮈﺍﻟﯽ . ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺷﺎﻡ ﮐﻮﺩﯾﮑﮭﺎﺗﻮ ﻣﯿﭩﮭﺎﭘﺎﻧﯽ ﺳﺒﺰﯼ ﻣﺎﺋﻞ ﺍﻭﺭﻣﭽﮭﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺁﻣﺎﺟﮕﺎﮦ ﺑﻦ ﭼﮑﺎﺗﮭﺎ . ﺟﺒﮑﮧ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﭘﺎﻧﯽ ﻗﺪﺭﮮﺑﮩﺘﺮﺗﮭﺎ . ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺩﮨﺮﺍﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺑﺎﺭﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮﻣﺴﻠﺴﻞ ﺣﺮﮐﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ . ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎﭨﯿﺴﭧ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺗﻮ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﺎ . ﺟﺒﮑﮧ ﻣﯿﭩﮭﺎﭘﺎﻧﯽ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮﭼﮑﺎﺗﮭﺎ . 
ﻧﻤﮑﯿﻦ ﭘﺎﻧﯽ ﻓﻠﭩﺮﮐﺮﮐﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻗﺎﺑﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻟﯿﺎﮔﯿﺎ . ﺍﺱ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﮯﺑﻌﺪ ﺧﺪﺍﺋﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﻋﻤﻠﯽ ﺑﺨﻮﺑﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﺁﮔﺌﯽ .

ﺍﮔﺮﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﺎﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﭩﮭﺎﮐﺮﺩﯾﺎﺟﺎﮰ . ﻣﺪﻭﺟﺰ ﮐﺎﺳﻠﺴﻠﮧ ﺭﻭﮎ ﺩﯾﺎﺟﺎﮰ ﺗﻮ ﺳﻤﻨﺪﺭﯼ ﭘﺎﻧﯽ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮﮐﺮﺗﻌﻔﻦ ﺯﺩﮦ ﻓﻀﺎﭼﮭﻮﮌﮮ ﮔﺎﺟﺲ ﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮒ ﻣﮩﻠﮏ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﺎﺷﮑﺎﺭﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ . ﻧﻈﺎﻡ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﻌﻄﻞ ﮨﻮﺟﺎﮰ ﮔﯽ . ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﻤﻨﺪﺭﯼ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﺎﻻﺯﻣﯽ ﺟﺰﻭ ﮨﮯ . ﻋﻼﻭﮦ ﺍﺯﯾﮟ ﺳﻤﻨﺪﺭﯼ ﻧﺎﯾﺎﺏ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﺫﺧﺎﺋﺮﻧﻤﮑﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﺑﺪﻭﻟﺖ ﭘﺮﻭﺭﺵ ﭘﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﺳﻮﻧﮯ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺳﻤﻨﺪﺭﯼ ﭘﻮﺩﺍ " ﻣﺮﺟﺎﻥ " ﻧﻤﮑﯿﺎﺗﯽ ﺟﺰﺋﯿﺎﺕ ﭘﺮﭘﺮﻭﺍﻥ ﭼﮍﮬﺘﺎ ﮨﮯ . ﻧﻤﮑﯿﻦ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﻤﻨﺪﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎﻣﯿﮟ ﺭﻭﺡ ﺟﯿﺴﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ

ﺭﺏ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮﺻﺤﯿﺢ ﺳﺎﻟﻢ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯿﻠﮱ ﭼﺎﺭ ﻃﺮﺡ ﮐﺎﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎﮨﮯ

 ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺑﺨﺎﺭﺍﺕ ﺑﻨﺎﮐﺮﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮐﯿﺎﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ . ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﻮﺳﻂ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻃﻠﺐ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﻧﯿﺰ ﻭﮨﺎﮞ ﺯﻣﯿﻨﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺑﯿﻠﻨﺲ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﺍﺑﺮﮐﯿﺎﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ

 ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺍﺅﮞ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻧﯿﭽﻠﯽ ﺳﻄﺢ ﮐﻮ ﺍﻭﭘﺮﻻﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ . ﺟﺲ ﺳﮯ ﺧﻼﺋﯽ ﺑﮭﻨﻮﺭ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﺟﺴﮯ ﭘﺮﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﮱ ﺍﻭﭘﺮﯼ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ .

 ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﮨﯿﮟ . ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻃﺮﻑ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﺎﮐﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺣﺼﮧ ﻧﮩﺮﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺑﮩﺘﮧ ﮨﻮﺍ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﮕﮧ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ . ﺍﺳﮯ ﺑﺤﺮﯼ " ﺭﻭ " ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ .

 ﮐﺸﺶ ﺛﻘﻞ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺶ ﻗﻤﺮﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮﻣﺴﻠﺴﻞ ﺣﺮﮐﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ . ﺟﺲ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺗﺎﺯﮔﯽ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ .
ﺑﮯﺷﮏ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﮩﺘﺮﺣﮑﻤﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ.

Monday, January 14, 2019

January 14, 2019

Amazing Facts about Saudi Arabia



سعودی عرب کے بارے 22 ایسی جانكارياں جو آپ نے

ابھی تک نہیں پڑھی ہوں گی: پڑھے اور شیئر کریں

 یہاں پانی مہنگا اور تیل سستا هے

 یہاں کے راستوں کی معلومات مردوں سے زیادہ عورتوں کو هے اور یہاں پر مکمل خریداری عورتیں ہی کرتی هیں مگر پردے میں رہ کر

 یہاں کی آبادی 4 کروڑ هے اور کاریں 9 کروڑ سے بھی زیادہ هے

 مکہ شہر کے کوڑا شہر سے 70km دور پہاڑیوں میں دبایا جاتا هے

 یہاں کا زم زم پورے سال اور پوری دنیا میں جاتا هے اور یہاں بھی پورے مکہ اور پورے سعودی میں استعمال ہوتا ه اور آج تک کبھی کم نہیں ہوا

 صرف مکہ میں ایک دن میں 3 لاکھ مرغ کی کھپت ہوتی ہے

 مکہ کے اندر کبھی باہمی جھگڑا نہیں ہوتا هے

سعودی میں تقریبا 30 لاکھ بھارتی 18 لاکھ پاکستانی 16 لاکھ بنگلہ دیشی 4 لاکھ مصری 1 لاکھ یمنی اور 3 ملین دیگر ممالک کے لوگ کام کرتے ه سوچو اللہ یہاں سے کتنے لوگوں کے گھر چلا رہا هے

 صرف مکہ میں 70 لاکھ AC استعمال ہوتی هے

یہاں کھجور کے سوا کوئی فصل نہیں نکلتی پھر بھی دنیا کی ہر چیز پھل سبزی وغیرہ ملتی هے اور بے موسم یہاں پر بکتی هے

 یہاں مکہ میں 200 کوالٹی کی کھجور بکتی هے اور ایک ایسی کھجور بھی هے جس میں ہڈی یا ہڑکِل ہی نہیں

 مکہ کے اندر کوئی بھی چیز لوکل یا ڈپلیکیٹ نہیں بکتی یہاں تک کے دوائی بھی

پورے سعودی عرب میں کوئی دریا یا تالاب نہیں هے پھر بھی یہاں پانی کی کوئی کمی نہیں هے

 مکہ میں کوئی پاور لائن باہر نہیں تمام زمین کے اندر ہی هے

 پورے مکہ میں کوئی نالہ یا نالی نہیں هے 

 دنیا کا بہترین کپڑا یہاں بکتا هے. جبکہ بنتا نہیں

 یہاں کی حکومت ہر پڑھنے والے بچے کو 600 سے 800 ریال ماہانہ دیتی هے

 یہاں دھوکا نام کی کوئی چیز ہی نہیں!

یہاں ترقیاتی کام کے لیے جو پیسہ حکومت سے ملتا هے وہ پورا کا پورا خرچ کیا جاتا هے

 یہاں سرسوں کے تیل کی کوئی اوقات نہیں پر بکتا تو هے یہاں سورج مکھی اور مکئی (مكي / ككڑي) کا تیل کھایا جاتا هے

یہاں هرايالي نہیں درخت پودے نہیں کے برابر ہیں پہاڑ خشک اور سیاہ ه مگر سانس لینے میں کوئی تکلیف ہی نہیں یہاں یہ سائنسی ریسرچ فیل هے

یہاں ہر چیز باہر سے منگائی جاتی هے پھر بھی مہنگائی نہیں ہوتی

Tuesday, January 8, 2019

January 08, 2019

Expensive Fish in the World - دنیا کی مہنگی ترین مچھلی



جاپان کے دارالحکومت میں دنیا کی سب سے مہنگی مچھلی 31 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوگئی۔


ٹوکیو کے مچھلی بازار میں 278 کلوگرام وزنی ’بلیو فِن‘ نامی مچھلی فروخت کے لیے لائی گئی جسے خریدنے میں لوگوں نے اتنی دلچسپی ظاہر کی کہ اس کو بولی لگا کر فروخت کیا گیا۔ مچھلی کی بولی کا آغاز ایک ہزار ڈالر سے شروع ہوا، بیوپاریوں اور گاہکوں کی طرف سے دو گھنٹے تک دام لگائے گئے جس کے بعد ایک خریدار نے اس کے 33 کروڑ 36 لاکھ ین قیمت لگائی۔

مالک نے سب سے زیادہ قیمت لگانے والے شخص کو مچھلی فروخت کی جو امریکی ڈالر کے حساب سے 31 لاکھ ڈالرز بنتے ہیں جبکہ اگر انہیں روپے میں تبدیل کیا جائے تو رقم 43 کروڑ 90 لاکھ روپے بنتی ہے۔ مچھلی بازار کے انچارج ماسایوکی نے دعویٰ کیا کہ یہ اب تک دنیا میں فروخت ہونے والی سب سے مہنگی مچھلی ہے، اس سے قبل سن 2013 فروری میں 5 ہزار پاؤنڈ کے عوض مچھلی فروخت کی گئی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ مچھلی جاپان کے ایک ریسٹورنٹ کے مالک نے خریدی، اب وہ اس کا گوشت اپنے ہوٹل میں پکائے جانے والے کھانوں میں استعمال کرے گا۔

ہوٹل مالک کیوشی کیمور کا کہنا تھا کہ اُن کی نظر میں اس مچھلی کی قیمت بہت زیادہ 60 لاکھ ین تھی مگر بولی لگانے کے عمل کے دوران انہوں نے طے کیا کہ اب یہ مچھلی میں ہی خریدوں گا۔

Monday, January 7, 2019

January 07, 2019

What is Prosperity - برکت نام کی کوئی چیز نہیں ھوتی


What is Prosperity - برکت نام کی کوئی چیز نہیں ھوتی


ايک شخص ابراھیم بن ادھمؒ سے بحث کر رھا تھا کہ برکت نام کی کوئی چیز نہیں ھوتی,

ابراہیم بن ادہمؒ نے کہا کہ تم نے کتے اور بکریاں دیکھیں ھیں وہ شخص بولا ھاں ,ابراھیم بن ادھمؒ بولے سب سے زیادہ بچے کون جنتا ھے کتے یا بکری وہ بولا کتے ,ابراھیم بن ادھمؒ بولے تم کو بکریاں زیادہ نظر آتیں ھیں یا کتے وہ بولا بکریاں ,
ابراھیم بن ادھمؒ بولے جبکہ بکریاں ذبح ھوتیں ھیں مگر پھر بھی کم نہیں ھوتیں تو کیا برکت نہیں ھے ,

اسی کا نام برکت ھے. پھر وہ شخص بولا کہ ایسا کیوں ھے کہ بکریوں میں برکت ھے اور کتے میں نہیں ,

ابراھیم بن ادھمؒ بولے کہ بکریاں رات ھوتے ھی فورا سو جاتیں ھیں اور فجر سے پہلے اٹھ جاتیں ھیں اور یہ نزول رحمت کا وقت ھوتا ھے لہذا ان میں برکت حاصل ھوتی ھے ,اور کتے رات بھر بھونکتے ھیں اور فجر کے قریب سو جاتے ھیں لہذا رحمت و برکت سے محروم ھوتے ھیں ,

پس غور و فکر کا مقام ھے آج ھمارا بھی یہی حال ھے ھم اپنی راتوں کو فضولیات میں گزارتے ھیں اور وقت نزول رحمت سو جاتے ھیں اسی وجہ سے آج نہ ھی ھمارے مال میں اور نہ ھی ھماری اولاد میں اور نہ ھی کسی دوسری چیز میں برکت رھی ھے

ذرا نہیں پورا سوچیئے ......
January 07, 2019

Man is a Priest of Lust - مرد ھوّس کا پجاری


*مرد ھوّس کا پجاری*


*جب عورت مرتی ھے اس کا جنازہ مرد اٹھاتا ھے۔ اس کو لحد میں یہی مرد اتارتا ھے*

*پیدائش پر یہی مرد اس کے کان میں اذان دیتا ھے۔*

*باپ کے روپ میں سینے سے لگاتا ھے بھائی کے روپ میں تحفظ فراہم کرتا ھے اور شوہر کے روپ میں محبت دیتا ھے۔*

*اور بیٹے کی صورت میں اس کے قدموں میں اپنے لیے جنت تلاش کرتا ھے*
*واقعی بہت ھوس کی نگاہ سے دیکھتا ھے*

*ھوس بڑھتے بڑھتے ماں حاجرہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے صفا و مروہ کے درمیان سعی تک لے جاتی ھے*

*اسی عورت کی پکار پر سندھ آپہنچتا ھے*

*اسی عورت کی خاطر اندلس فتح کرتا ھے۔ اور اسی ھوس کی خاطر 80% مقتولین عورت کی عصمت کی حفاظت کی خاطر موت کی نیند سو جاتے ہیں۔ واقعی ''مرد ھوس کا پجاری ھے۔''*

*لیکن جب ھوا کی بیٹی کھلا بدن لیے، چست لباس پہنے باہر نکلتی ھے اور اسکو اپنے سحر میں مبتلا کر دیتی ھے تو یہ واقعی ھوس کا پجاری بن جاتا ھے*

*اور کیوں نا ھو؟*

*کھلا گوشت تو آخر کتے بلیوں کے لیے ھی ھوتا ھے۔*

*جب عورت گھر سے باھر ھوس کے پجاریوں کا ایمان خراب کرنے نکلتی ھے۔ تو روکنے پر یہ آزاد خیال عورت مرد کو "تنگ نظر" اور "پتھر کے زمانہ کا" جیسے القابات سے نواز دیتی ھے کہ کھلے گوشت کی حفاظت نہیں کتوں بلوں کے منہ سینے چاہیے ھیں*

*ستر ہزار کا سیل فون ہاتھ میں لیکر تنگ شرٹ کے ساتھ پھٹی ھوئی جینز پہن کر ساڑھے چارہزار کا میک اپ چہرے پر لگا کر کھلے بالوں کو شانوں پر گرا کر انڈے کی شکل جیسا چشمہ لگا کر کھلے بال جب لڑکیاں گھر سے باہر نکل کر مرد کی ھوس بھری نظروں کی شکایت کریں تو انکو توپ کے آگے باندھ کر اڑادینا چاہئیے جو سیدھا یورپ و امریکہ میں جاگریں اور اپنے جیسی عورتوں کی حالت_زار دیکھیں جنکی عزت صرف بستر کی حد تک محدود ھے*
*"سنبھال اے بنت حوا اپنے شوخ مزاج کو*

*ھم نے سرِبازار حسن کو نیلام ھوتے دیکھا ھے"*

*مرد*

*میں نے مرد کی بے بسی تب محسوس کی جب میرے والد کینسر سے جنگ لڑ رہے تھے اور انھیں صحت یاب ہونے سے زیادہ اس بات کی فکر لاحق تھی کہ جو کچھ انھوں نے اپنے بچوں کے لئے بچایا تھا وہ ان کی بیماری پر خرچ ہورہا ھے اور ان کے بعد ھمارا کیا ھوگا؟ میں نے مرد کی قربانی تب دیکھی جب ایک بازارعید کی شاپنگ کرنے گئی اور ایک فیملی کو دیکھا جن کے ھاتھوں میں شاپنگ بیگز کا ڈھیر تھا اور بیوی شوہر سے کہہ رھی تھی کہ میری اور بچوں کی خریداری پوری ھوگئی آپ نے کرتا خرید لیا آپ کوئی نئی چپل بھی خرید لیں جس پر جواب آیا ضرورت ہی نہیں پچھلے سال والی کونسی روز پہنی ھے جو خراب ھوگئی ھوگی، تم دیکھ لو اور کیا لینا ھے بعد میں اکیلے آکر اس رش میں کچھ نہیں لے پاؤں گی۔ ابھی میں ساتھ ھوں جو خریدنا ھے آج ھی خرید لو۔*

*میں نے مرد کا ایثار تب محسوس کیا جب وہ اپنی بیوی بچوں کے لئے کچھ لایا تو اپنی ماں اور بہن کے لئے بھی تحفہ لایا، میں نے مرد کا تحفظ تب دیکھا جب سڑک کراس کرتے وقت اس نے اپنے ساتھ چلنے والی فیملی کو اپنے پیچھے کرتے ہوئے خود کو ٹریفک کے سامنے رکھا۔ میں نے مرد کا ضبط تب دیکھا جب اس کی جوان بیٹی گھر اجڑنے پر واپس لوٹی تو اس نے غم کو چھپاتے ھوئے بیٹی کو سینے سے لگایا اور کہا کہ ابھی میں زندہ ھوں لیکن اس کی کھنچتی ہوئے کنپٹیاں اور سرخ ھوتی ھوئی آنکھیں بتارھی تھیں کہ ڈھیر تو وہ بھی ھوچکا، رونا تو وہ بھی چاہتا ہے لیکن یہ جملہ کہ مرد کبھی روتا نہیں ھے اسے رونے نہیں دیگا۔*

( *بانو قدسیہ*)

Wednesday, January 2, 2019

January 02, 2019

Dosri Namaz - دوسری نماز

loading...


دوسری نماز


ساجدہ کی عمر بیس سال سے کچھ ہی شرما رہی ہوگی کہ گھر پر ناگہانی آفت آن پڑی۔ اُس کے باپ کو فالج ہوگیا، اُس نے ساری زندگی رکشہ چلا کر جیسے تیسے اپنی بیوی اور اکلوتی بیٹی کا پیٹ پالا تھا مگر آج دوسروں کے رحم و کرم پر تھا۔ ساجدہ پر سارے گھر کی ذمہ داریاں آن پڑیں۔ شرم و حیاء کی پیکر، تہجد گزار، برقع پوش جائے تو جائے کہاں اور کرے تو کرے کیا؟

لاہور جیسے شہر میں نوکری تلاش کرنا جُوئے شِیر لانے کے مترادِف ہے۔ کئی دن گزر گئے، گھر میں فاقوں کی نوبت آگئی مگر کام نہ بنا۔ سفید پوشی کی اذیت سفید کفن سے زیادہ ہوتی ہے کہ اِس کے نیچے زندگی سِسک رہی ہوتی ہے۔ ساجدہ نے اللہ کا نام لے کر باپ کا رِکشہ نکالا اور روڈ پر آگئی، بچپن سے وہ رکشے کی دیکھ بھال کرکے آدھی مکینک تو ہو ہی چکی تھی۔ پہلے ہی چوک پر پنجاب کی مستعد پولیس نے دھر لیا اور کہا کہ اِسلامی جمہوریہ پاکستان میں عورتوں کو رِکشہ چلانے کی اِجازت نہیں۔ اِس سے کلچر پر بُرا اثر پڑے گا، رو دھو کے ساجدہ نے بڑی مشکل سے خُلاصی پائی۔

جُون کی جُھلستی دھوپ میں ساجدہ سر جھکائے گھر کی جانب رواں دواں تھی کہ اسے اچانک اپنی ایک سہیلی کا خیال آیا جس نے اسے ایک بیوٹی پارلر کا پتہ بتایا تھا کہ وہ لڑکیوں کو روزانہ اُجرت پر رکھ لیتے ہیں۔ ساجدہ کے پاؤں کسی مشین کی طرح اسی طرف چلنے لگے۔ دِل نے ہزار بار کچوکے لگائے کہ یہ راستہ ٹھیک نہیں مگر پیٹ بھُوکا ہو تو وہ منطق بھی کھا جاتا ہے۔ بیوٹی پارلر والی ’’باجی‘‘ نے پانچ ہزار روپے اپنا کمیشن بتایا اور کہا کہ پانچ ہزار فی گاہک اُسے ملیں گے اور یوں اِسلامی جمہوریہ پاکستان میں جسم بیچنے کی اِجازت مل گئی۔ اُس کے بعد کے کچھ گھنٹے ساجدہ کو صحیح طرح سے یاد نہیں، کچھ خیال سا پڑتا ہے کہ اس کے باپ کی عمر کا ساہوکار تھا یا شاید گِدھ جو اُسے مردہ سمجھ کر نوچ رہا تھا۔ ساجدہ تو ویسے بھی سُن تھی بس زبان سے مسلسل نکل رہا تھا کہ

’’اللہ معاف کر دینا، باپ بھُوکا ہے‘‘ ۔

کچھ دیر بعد ساجدہ مُٹھّی میں پانچ ہزار روپے دبائے گھر کی طرف بھاگتی چلی آ رہی تھی، گھر پہنچتے ہی اُس نے غسل کیا اور جائے نماز پر کھڑی ہوگئی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ نماز لمبی تھی یا بعد میں مانگے جانے والی دُعا، جب زبان نے جذبات کا ساتھ چھوڑ دِیا اور آنسوؤں نے آنکھوں کے بند توڑ دیئے۔ تب شاید ساجدہ نے سجدے سے سر اُٹھایا۔ وہ اُٹھی اور ملحقہ کمرے میں جا کے باپ کی چارپائی کے سرہانے بیٹھ گئی اور مُٹھّی کھول کے پیسے باپ کی جھولی میں ڈال دیئے۔

ماں نے اچنبھے سے پوچھا، ارے واہ میری بیٹی، پیسہ کہاں سے کما کے لائی؟ ساجدہ نے بڑی مشکل سے بدن پر رینگتی چیونٹیوں کے احساس کو دباتے ہوئے جواب دیا۔ ماں تُو چھوڑ اِن باتوں کو، بس ابھی نماز پڑھ کر آ رہی ہوں۔ ماں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔

ارے پگلی، پھر تو جا کے دوسری نماز بھی پڑھ لے۔